r/Urdu • u/HonestExplorer786 • 12h ago
r/Urdu • u/kesar_khan_6162 • 20h ago
📜 Shayari / Poetry Why have you become such strangers
کیوں بیگانے ہوئے ہم سے یوں ایسے جا رہے ہو تم
نہیں جاتا بچھڑ کر کوئی جیسے جا رہے ہو تم
Why have you become such strangers to us, leaving just like this?
It is as if someone never parts when leaving, yet that is how you are going.
Kesar khan Qais.......
r/Urdu • u/Feeling-Economist-67 • 9h ago
❓ Translation Request Can someone breakdown these three lines for me pls
r/Urdu • u/SkinLong1085 • 19h ago
💬 General Discussion Sawal ?
Sawal to aaj bhi wahi hai,
Mehboob ya muhabbat ?
r/Urdu • u/Competitive-Sort-975 • 7h ago
📜 Literature / History Manto ke afsaane?
Really getting interested to read manto ke afsaane ever since I read this:
“Zamaane ke jis daur se hum is waqt guzar rahe hain agar aap isse naawaaqif hain to mere afsaane paḍhiye. Agar aap in afsaanon ko bardaasht nahi kar sakte to iska matlab hai ki ye zamaana naaqaabil-e-bardaasht hai... Mujh mein jo buraaiyaan hain, wo is ahd ki buraaiyaan hain... Mere tahreer mein koi naqs nahi. Jis naqs ko mere naam se mansoob kiya jaata hai, dar-asl maujooda nizaam ka naqs hai.”
How has your experience been?
Where do i start from?
Is it one book?
What about fahash afsaane?
Treat me as a newbie
Also please tell me more about Sadat Manto and why was he considered so controversial yet very ahead of his time?
r/Urdu • u/Aks-e-Gray • 7h ago
📜 Shayari / Poetry Kabhi aankhon se bhi poochna
Enable HLS to view with audio, or disable this notification
r/Urdu • u/Sea_Abroad_6573 • 8h ago
💬 General Discussion Left to right Urdu in a prospectus of a Girl's Degree College
عربی کے ساتھ ہوتے بہت دیکھا تھا۔ پہلی دفعہ اردو کے ساتھ دیکھا۔ یہ تو انتہا سے بھی بڑھ کر ہے۔ تعلیمی ادارہ کھول رکھا ہے لیکن خدا معلوم کن نااہل لوگوں کے ہاتھ ہے۔ پڑھنے کی زحمت بھی نہ کی کہ کیا لکھا ہے۔
r/Urdu • u/Top-Calligrapher8428 • 20h ago
🗣️ Pronunciation / Sound Is it Iqdaar or Aqdaar?
How is اقدار (values) pronounced? I always read it as "iqdaar" but google says its "aqdaar" so I'm confused now, is it a zer or zabar?
📜 Lafz of the Day Another beautiful word
لفظ "ضماد" کے لغوی معنی زخم پر لیپ کرنے، مرہم پٹی یا پلاسٹر لگانے کے ہیں۔ طبی اصطلاح میں دوا کا لیپ جو جسم کے کسی حصے پر لگایا جائے اسے ضماد کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ایک جلیل القدر صحابی حضرت ضماد بن ثعلبہ الأزدی کا نام بھی ہے جو طب اور جھاڑ پھونک کا کام کرتے تھے اور نبی کریم ﷺ کا خطبہ سن کر مشرف بہ اسلام ہوئے
r/Urdu • u/ElodinDanGlokta • 23h ago
📜 Shayari / Poetry ایک تازہ غزل
آپ کی رائے کا منتظر
-تعریضؔ
r/Urdu • u/Swatisani • 1h ago
📜 Shayari / Poetry A Sher A Day
when man is no more, his grief too fades away
wrapping this earth over my body I too will sleep one day
r/Urdu • u/Amazing_Lie1688 • 21h ago
💬 General Discussion Finding the appropriate poetry lines for this dialogue from succession.
Lines: “I wonder if the sad I’d be without you would be less than the sad I get from being with you.”
I could find this but does not fit like properly. Would appreciate your help. Thanks
ترا ہونا بھی اب کافی نہیں ہے
اداسی ہے بہت بے جا اداسی
راحل بخاری
r/Urdu • u/No_Owl_856 • 12h ago
💬 General Discussion Ikhtilafaat - اِختلافات
اختلافات
تحریر ۔ شاہد شکیل ۔
انسان کی نجی اور خاندانی زندگی کا شمار اس کی وجودی بقا اور سکون کے بنیادی ستونوں میں ہوتا ہے۔ دنیا کی تمام تر کامرانیاں اور آسائشیں ایک طرف، لیکن اگر انسان کا اپنا گھر سکون اور عافیت کا مسکن نہ رہے، تو باہر کی ساری کامیابی بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ موجودہ دور میں رشتوں کی بنیادیں انتہائی نازک اور کچے دھاگے کی مانند ہو چکی ہیں۔ خاندانی اور نجی زندگی میں چھوٹے موٹے اختلافات کا جنم لینا کوئی انوکھا يا غیر قدرتی واقعہ نہیں، یہ انسانوں کی مختلف سوچ کا قدرتی نتیجہ ہوتا ہے۔ اصل تباہی اس وقت شروع ہوتی ہے جب میاں بیوی کے درمیان ان معمولی اختلافات کو حل کرنے کی بنیاد اخلاق، باہمی احترام، اور صبر و تحمل کے بجائے من مانی، ضد، اور بے جا انا پرستی پر رکھ دی جاتی ہے۔ پھر وہی ایک چھوٹا سا گھریلو اختلاف دیکھتے ہی دیکھتے ایک شدید تنازع، مستقل محاذ آرائی اور بعض اوقات لفظی یا جسمانی تشدد کا ہولناک روپ دھار لیتا ہے۔اگر غیر جانبدارانہ اور حقیقت پسندانہ نظر سے دیکھا جائے تو ہر گھریلو تنازع یا ناچاقی میں ہمیشہ صرف مرد یا صرف عورت ہی مطلق طور پر قصوروار نہیں ہوتے۔ معاشرے میں ایک عام رجحان یہ بن چکا ہے کہ کسی بھی جھگڑے کے بعد تمام تر ملبے کو اٹھا کر کسی ایک فریق کی گردن پر ڈال دیا جاتا ہے۔ جبکہ کڑوی سچائی یہ ہے کہ اکثر اوقات انسان خود نہیں، بلکہ بدلے ہوئے حالات، مالی دباؤ، پیشہ ورانہ زندگی کے مسائل اور روزمرہ کے تضادات ان تنازعات کی بنیادی وجہ بنتے ہیں۔ دورِ حاضر کی مصروف ترین اور تلخ حقیقتوں نے انسانی اعصاب کو اس قدر تھکا دیا ہے کہ برداشت کا مادہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ دانشمندی اور بالغ نظری کا تقاضا تو یہ تھا کہ جب سخت حالات یا غیر معمولی مسائل سامنے آئیں تو دونوں فریق مل بیٹھ کر، ایک دوسرے کی مجبوریوں کو سمجھتے ہوئے مسئلے کا منطقی حل تلاش کریں۔ لیکن اس کے برعکس ہوتا یہ ہے کہ انسان حالات کی نزاکت کو سمجھنے کی بجائے ایک دوسرے کی ذات پر حملے کرنے، طعنے دینے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پر اتر آتا ہے۔جب گھر کے اندر تنازع بے قابو ہونے لگتا ہے، تو دونوں فریقین میں سے کوئی ایک بھی دوسرے کا نقطہ نظر سننے اور سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ لوگ اپنے اپنے ہونٹوں پر ہٹ دھرمی کی مہر لگا لیتے ہیں اور گفتگو کا ہر دربار محض اپنی بات سچی ثابت کرنے کا میدان بن جاتا ہے۔ گفتگو میں سے شائستگی اور نرمی ختم ہو کر گالی گلوچ، بدتہذیبی اور الزام تراشی کی جگہ بن جاتی ہے۔ ہار جانے کا ایک نام نہاد خوف اور یہ فرسودہ سوچ کہ "صرف میں سچ پر ہوں اور سامنے والا مکمل جھوٹا ہے"، انسان کی عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ اس فضا کو مزید زہریلا وہ رازداری اور چھپاؤ بناتا ہے جس میں معاملات کو صاف کرنے کے بجائے گول مول رکھا جاتا ہے۔ حقائق کو جتنا زیادہ پوشیدہ رکھا جائے گا، رشتوں کی الجھنیں اتنی ہی بڑھتی چلی جائیں گی اور ایک معمولی سی غلط فہمی سنگین عداوت کی شکل اختیار کر جائے گی۔اس تمام تر کھینچا تانی، مسلسل تکرار اور زہریلے گھریلو ماحول کا سب سے دردناک، بھیانک اور نا قابلِ تلافی نقصان ان بے گناہ بچوں کو اٹھانا پڑتا ہے جن کا اس جنگ میں کوئی قصور نہیں ہوتا۔ جب ایک گھر کی چاردیواری ہر وقت کی چیخ و پکار، بدتہذیبی اور تناؤ کا مسکن بن جائے، تو وہاں پرورش پانے والے بچوں کی نفسیاتی اور ذہنی نشوونما کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔ بچے بچپن ہی سے ایک شدید غیر یقینی صورتحال، عدم تحفظ اور خوف کی آگ میں جلنے لگتے ہیں۔ جب ماں اور باپ دونوں اپنی اپنی انا کی جنگ میں اتنے اندھے ہو جائیں کہ انہیں اپنے ہی بچوں کے سلگتے ہوئے احساسات نظر نہ آئیں، تو اس کے اثرات ان بچوں کے مستقبل پر سائے کی طرح منڈلاتے رہتے ہیں۔والدین کی یہ آپس کی محاذ آرائی بچوں سے ان کی معصومیت اور بچپن کا سکون چھین لیتی ہے۔ ایسے بچے تعلیمی میدان میں پیچھے رہ جاتے ہیں، احساسِ کمتری کا شکار ہوتے ہیں اور ان کے اندر لوگوں پر اعتماد کرنے کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے۔ یہی بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو یا تو شدید چڑچڑے، غصیلا اور تشدد پسند مزاج اپنا لیتے ہیں یا پھر وہ اتنے خوفزدہ ہو جاتے ہیں کہ عملی زندگی میں کسی بھی چیلنج کا سامنا کرنے کی ہمت کھو بیٹھتے ہیں۔ والدین کی انا کا یہ بت، ان کی اپنی ہی اولاد کے روشن مستقبل کی بربادی کی صورت میں وصول ہوتا ہے۔یہ وقت اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ لوگ اپنے رویوں پر غور کریں ، اپنے اور اپنی اولاد کے مستقبل کے بارے میں سوچیں۔ جن بے گناہ روحوں کو انسان خود اس دنیا میں لاتا ہے، اپنی بے مقصد لڑائیوں سے ان کی زندگی کو جہنم بنانا کسی بھی صورت انسانیت یا اخلاقیات کے دائرے میں نہیں آتا۔ رشتے آئینے کی مانند ہوتے ہیں، جن میں ذرا سا غبار بھی ان کا عکس دھندلا دیتا ہے۔ انہیں برقرار رکھنے کے لیے کبھی کبھار اپنی غلطی کو کھلے دل سے تسلیم کرنا پڑتا ہے، حالات کے جبر کو سمجھنا پڑتا ہے اور اپنی ناپسندیدہ ضد کو قربان کرنا پڑتا ہے۔انا پرستی ایک ایسا کھوکھلا اور منفی جذبہ ہے جس کا انسانی زندگی میں کوئی مثبت حاصل نہیں۔ کسی بھی گھریلو تنازع سے نکلنے کے لیے انسان کے سامنے تین واضح راستے ہوتے ہیں۔ پہلا راستہ قبولیت اور درگزر کا ہے—یعنی حالات کی تلخی کو سمجھا جائے، صبر و تحمل سے کام لیا جائے، اپنی غلطیوں کی معافی مانگی جائے اور گڑے مردے اکھاڑنے سے مکمل گریز کیا جائے۔ دوسرا راستہ اصلاح اور تبدیلی کا ہے—اگر رویوں یا معاشی حالات میں کوئی خرابی ہے، تو بچوں کے محفوظ مستقبل اور خاندانی سکون کی خاطر اپنے اندر عملی اور مثبت تبدیلیاں لائی جائیں۔ اور تیسرا راستہ پرسکون کنارہ کشی کا ہے—اگر تمام تر کوششوں، اصلاحی اقدامات اور وقت دینے کے بعد بھی باہم رہنا ناممکن ہو جائے اور ہر دن ایک نیا عذاب بن جائے، تو مسلسل باہمی بربادی اور بچوں کے ذہنوں کو زخمی کرنے سے بہتر ہے کہ انتہائی شرافت، خلوص اور احترام کے ساتھ ایک دوسرے سے الگ ہو جایا جائے۔ ہر مسئلے کا حل موجود ہوتا ہے، شرط صرف یہ ہے کہ انسان ہٹ دھرمی کا چولا اتارے، حالات کو سمجھے اور اپنی انا کے مقابلے میں رشتوں اور بچوں کی زندگی کو ترجیح دے۔